ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حجاب تنازع : اڈپی کے تمام ہائی اسکولوں کے آس پاس دفعہ 144 نافذ؛ کرناٹک کے وزیر اعلی بومائی کو امن اور معمول کی صورتحال کی بحالی کا یقین

حجاب تنازع : اڈپی کے تمام ہائی اسکولوں کے آس پاس دفعہ 144 نافذ؛ کرناٹک کے وزیر اعلی بومائی کو امن اور معمول کی صورتحال کی بحالی کا یقین

Mon, 14 Feb 2022 07:53:07    S.O. News Service

اڈپی 14 فروری (ایس او نیوز) اڈپی ضلعی انتظامیہ نے ضلع کے سبھی  ہائی اسکولوں کے آس پاس کے علاقوں میں پیر سے لے کر 19 فروری تک سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت حکم امتناعی احکامات نافذ کر دیا ہے۔ اسکولوں کے پیر سے پھر سے کھلنے کے ساتھ اس قدم کو احتیاطی تدبیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریاستی سرکار نے حجاب بھگوا شال تنازع کے مدنظر اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ حکم 14 فروری کو صبح 8 بجے سے 19 فروری کی شام 6 بجے تک نافذ رہے گا۔ ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ڈپٹی کمشنرایم کور ماراؤ سے ہائی اسکولوں کے آس پاس کے 200 میٹر کے دائرے میں دفعہ 144 نافذ کرنے کی اپیل کی تھی۔ حکم کے مطابق اسکولوں کے اس دائرے کے اندر 5 یا اس سے زائدلوگوں کے جمع ہونے پر روک رہے گی۔مظاہرہ اور ریلیوں پر پابندی رہے گی۔ نعرہ بازی، گیت گانے یا تقریر کرنے پرسخت پابندی رہے گی۔

اس درمیان ہبلی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیراعلی بسوراج بومائی نے ریاست بھر میں 10 ویں کلاس تک کے ہائی اسکولوں کے پھر سے کھلنے سے ایک دن قبل اتوار کواعتماد ظاہر کیا کہ امن اور معمول کی صورتحال بحال ہوگی۔ریاست میں حجاب کو لے کر جاری تنازع کے سبب ان اسکولوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ بومائی نے کہا کہ پری یونیورسٹی اور ڈگری کالجوں کو پھر سے کھولنے کے سلسلے میں فیصلہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 10 ویں کلاس تک کے ہائی اسکول پیر کو پھر سے کھلیں گے۔ سبھی اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ، پولیس سپرنٹنڈنٹ اور عوامی ہدایات کے ڈپٹی ڈائرکٹر کو دوستانہ ماحول بناۓ رکھنے کے مقصد سے اہم اسکولوں میں سر پرستوں اور اساتذہ کی امن میٹنگیں بلانے کیلئے کہا گیا ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ اسکولوں میں پرامن طریقے سے کام ہوگا۔ یہاں صحافیوں سے بات چیت میں وزیراعلی نے کہا کہ انہوں نے پری یونیورسٹی اور ڈگری کالجوں کو پھر سے کھولنے کے سلسلے میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وزیر تعلیم سے ایک رپورٹ سونپنے کو کہا ہے، جس کی بنیاد پر ایک میٹنگ منعقد کی جائے گی اور فیصلہ لیا جاۓ گا۔

سرکارنے جمعہ کوکہا تھا کہ حجاب تنازع کے مدنظر محکمہ برائے اعلی تعلیم سے ملحق یونیورسٹیوں اور کالجوں میں 16 فروری تک چھٹی کا اعلان کیا جا تا ہے۔ حجاب تنازع کے پیچھے تنظیموں اور غیرملکی طاقتوں کا ہاتھ ہونے کی خبروں پر بومائی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے جانچ حکام نے میڈیا اور سوشل میڈیا پرایسی خبروں پرنوٹس لیا ہے، وہ اپنی طرف سے معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ میرا پہلا فرض ہے کہ اسکول اور کالج معمول کے مطابق کام کر یں اور طلبا پرامن اور دوستانہ ماحول میں پڑھیں اور امتحانات کی تیاری کر یں جس کے ماریچ، اپریل تک ہونے کا امکان ہے۔ کرناٹک کے الگ الگ حصوں میں حجاب کے خلاف اور حمایت میں مظاہرے تیز ہونے پر سرکار نے 9 فروری سے ریاست میں بھی ہائی اسکولوں اور کالجوں کیلئے 3 دن کی چھٹی کا اعلان کیا تھا۔ عدالت کے حکم پر سرکارنے 10 فروری کو 10 ویں کلاس تک  کے طلبا کیلئے 14 فروری سے اسکولوں کو پھر سے کھولنے کا فیصہ لیا تھا۔

بومائی نے کہا کہ ریاست کی مجموعی ترقی کا ان کا منصوبہ ہے۔ ان کے پاس محکمہ خزانہ کا بھی چارج ہے اور وہ اگلے ماہ اپنا پہلا بجٹ پیش کریں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں میں کووڈ کے سبب آنے والی مندی کے بعد پچھلے 5-4 مہینوں سے حالات بہتر ہورہے ہیں ، ریونیو کلیکشن میں بہتری آئی ہے۔ بحٹ اقتصادی ترقی عوامی بہبوداور مالیاتی ڈسپلن پر مرکوز ہوگا۔ ہمیں معیشت کو بڑھاوا دینا ہوگا ساتھ ہی کمز ورطبقات اور کام کاجی طبقہ کوترجیح دینی ہوگی۔


Share: